تعارف جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ
جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ مسلم نونہالان کو اعلیٰ دینی و اسلامی علوم اور عصری سائنسی مہارت سے آراستہ کرنے کی تحریک میں ایک مخلصانہ اور مبارک خدمت ہے۔ گو کہ اس کے آغاز کو محض چند دہائیاں گزری ہیں، لیکن اس کی تعلیمی، تربیتی اور دعوتی کارکردگی بے حد حوصلہ افزا اور قابلِ رشک رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر و احسان ہے کہ آج جامعۃ القاسم ملک کا ایک مایہ ناز دینی و علمی ادارہ شمار ہوتا ہے جہاں مسلم طلبہ کو اسلامی علوم کے بنیادی مراجع و سرچشموں پر مشتمل جامع و معیاری نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور جامعہ کی مخلصانہ جدوجہد کے نتیجے میں ملک کے لاتعداد دینی مدارس کے درمیان اس کا مقام نہایت بلند ہے، اور جید اکابرین و علمائے کرام نے جامعہ کی تعلیمی کارکردگی پر اپنے گہرے اور اطمینان بخش تاثرات قلمبند فرمائے ہیں۔ ان جلیل القدر علماء کی مفصل فہرست اور ان کے دستخط شدہ کلماتِ تاثرات اس تعارف کے ساتھ موجود ہیں جو انہوں نے جامعہ کے براہِ راست مشاہدے کے بعد عنایت فرمائے۔
اس دینی ادارے کی بنیاد رکھ کر درحقیقت اس پورے سرحدی خطے اور اس کے قرب و جوار میں تعلیمی و شعوری بیداری کی ایک عظیم تحریک برپا کی گئی۔ اگرچہ یہ کام انتہائی بے سر و سامانی اور قلتِ وسائل کے عالم میں شروع کیا گیا تھا، لیکن تائیدِ غیبی اور فضلِ الٰہی سے یہ ادارہ مسلسل آگے بڑھتا رہا، اور تعلیم، نئی عمارتوں کی تعمیر، اور طلبہ کے شاندار امتحانی نتائج کے تمام میدانوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی۔ بحمد اللہ آج یہ ادارہ ریاست بہار کا ایک ممتاز دینی قلعہ بن چکا ہے اور اس کی دینی، تعلیمی، علمی، سماجی اور فلاحی خدمات نے اسے منفرد مقام بخشا ہے۔
جامعہ کا قیام 16 شعبان المعظم 1409ھ مطابق 25 مارچ 1989ء کو عمل میں آیا۔ مرکزی کیمپس اور تمام شاخوں کو ملا کر زیر تعلیم طلبہ کی کل تعداد 4,150 سے زائد ہے، جن میں سے 850 مقیم طلبہ ہیں جن کے قیام، طعام، تعلیم اور علاج کا تمام خرچ جامعہ خود برداشت کرتا ہے۔ ہند-نیپال کی سرحد پر واقع سات ملحقہ اضلاع میں قائم 25 تعلیمی شاخوں میں 3,300 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ طلبہ کی اتنی بڑی تعداد کی تعلیم و تربیت کے لیے جامعہ نے 70 سے زائد ماہر اور تجربہ کار اساتذہ و مربیین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ خطہ مسلم اکثریتی آبادی کا علاقہ ہے، لیکن بدقسمتی سے معاشی و تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے یہ علاقہ اسلام دشمن فتنوں، بالخصوص قادیانیت کی فتنہ انگیزیوں کی زد میں تھا، جس کے مقابلے کے لیے جامعہ کا وجود ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوا۔
آمد و خرچ اور مالی تفصیلات
جامعہ کے مالی حسابات کے مطابق مجموعی سالانہ آمدنی: 3,01,21,674 روپے جبکہ کل اخراجات: 3,35,35,155 روپے رہے، جس کے نتیجے میں بیلنس شیٹ میں 34 لاکھ سے زائد روپے (34,13,481 روپے) کا خسارہ ظاہر ہو رہا ہے۔ ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خدمات کی گرانی نے جامعہ کی انتظامیہ کو آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 4 کروڑ روپے کا تخمینہ بجٹ تیار کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ جامعۃ القاسم کے مستقبل کے زیر تجویز تعمیراتی منصوبوں کا تخمینہ بجٹ 16 کروڑ 58 لاکھ روپے (16,58,26,400 روپے) سے زیادہ ہے۔ ہم تمام اہل خیر، مخلص معاونین اور سرپرستوں سے دل کی گہرائیوں کے ساتھ مالی تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔
سرپرستانِ عظام و اکابرین:
یہ بات بھی انتہائی مسرت بخش ہے کہ یہ جامعہ برصغیر کی تین جلیل القدر روحانی و علمی شخصیات کی محبت، سرپرستی اور رہنمائی میں گامزن رہا ہے۔ یعنی: خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ (جانشین حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ و سابق مہتمم دار العلوم وقف دیوبند)، عالمِ ربانی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی (مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ و چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی)، اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے علمی جانشین و امین حضرت مولانا سید محمد شاہد سہارنپوری (امینِ عام جامعہ مظاہر علوم سہارنپور)۔
توجہ طلب گزارش و پرخلوص اپیل:
مذکورہ بالا تمام حقائق کے پیش نظر عام اہل اسلام اور خصوصاً صاحبانِ ثروت و متمول حضرات سے پرخلوص گزارش ہے کہ وہ جامعہ کے تعلیمی و تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل اور موجودہ ضروریات کی بہتر ادائیگی کے لیے اپنے مالی تعاون اور مخلصانہ امداد میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ جامعہ کے نمائندگان کے ساتھ آپ کا تعاون اور جامعہ کی ہر ممکن مالی و اخلاقی امداد آخرت میں عظیم ترین اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گی اور دنیا میں بھی اللہ رب العزت اور بندگانِ خدا کے درمیان مقبولیت کا سبب ہوگی۔
وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا
"اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے ہاں بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت بڑا پاؤ گے۔"