تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی کانفرنسیں
تاریخی اصلاحِ معاشرہ کانفرنس اور "جامع الامام محمد قاسم النانوتویؒ (مسجد)" کا سنگِ بنیاد
جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ کے زیر اہتمام ۲۸ اور ۲۹ ربیع الاول ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۷ اور ۲۸ اپریل ۲۰۰۶ء کو اصلاحِ معاشرہ کا ایک عظیم الشان تاریخی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت شیخ و مرشد حضرت مولانا محمد قمر الزماں الہ آبادی دامت برکاتہم نے فرمائی۔ جبکہ حکومتِ بہار کے کابینہ وزیر ڈاکٹر مناظر حسن، رکنِ پارلیمنٹ مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ، مولانا محمد سفیان قاسمی (نائب مہتمم دار العلوم وقف دیوبند) اور دیگر نامور علماء و دانشورانِ عظام بطورِ مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔
اس پروقار موقع پر حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (بانی دار العلوم دیوبند) کے نام سے منسوب ۱۶,۰۰۰ مربع فٹ پر محیط ایک شاندار مسجد 'جامع الامام محمد قاسم النانوتوی' کا سنگِ بنیاد علماء و مشائخ کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔ اس زیرِ تعمیر جامع مسجد میں ایک وقت میں ۳۰,۰۰۰ بندگانِ خدا باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد کی چھت کی ڈھلائی کا مرحلہ پیش نظر ہے، جبکہ اس مسجد سے متصل حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کے نام سے منسوب 'معہد اشرف لتحفیظ القرآن الکریم' کے دس (۱۰) تدریسی کمرے اور ان کی چھت کی تعمیر بھی زیرِ تکمیل ہے۔ نیز بانی تبلیغی جماعت مرکز نظام الدین نئی دہلی کے نام سے منسوب ۴۹ کمروں پر مشتمل 'رواقِ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ' کا تعمیری کام مکمل ہو چکا ہے۔
پیامِ انسانیت کانفرنس اور "مرکز الامام ابی الحسن علی حسنی ندویؒ الاسلامی" کا قیام
مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ (سابق ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) کے نام سے منسوب ۲۴,۰۰۰ مربع فٹ کے رقبے پر محیط 'مرکز الامام ابی الحسن علی حسنی ندوی الاسلامی' کا سنگِ بنیاد عالمِ ربانی حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی (مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) کے دستِ مبارک سے ۲۹ اور ۳۰ ذی قعدہ ۱۴۲۸ھ مطابق ۹ اور ۱۰ دسمبر ۲۰۰۷ء کو پیامِ انسانیت کانفرنس کے موقع پر رکھا گیا۔
اس اجلاس کی صدارت حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے فرمائی، جبکہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری (چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم، لندن) اور مولانا انیس الرحمن قاسمی (ناظم امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ) سمیت ۲۵ ہزار سے زائد علماء، دانشوران اور مخلصین اس موقع پر موجود تھے۔
موجودہ دورِ ترقی میں امتِ مسلمہ کے نونہالان تعلیم کے میدان میں عموماً پسماندہ رہ جاتے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر جامعہ کے مخلصین نے 'کوسی انسان کالج'، مسلم بچیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے 'معہد عائشہ صدیقہؓ' اور 'القاضی کمپیوٹر سینٹر' جیسے وقت کے اہم تقاضوں کو اپنے تعمیری منصوبوں میں شامل کیا، جبکہ زمانے کے تغیرات کو دیکھتے ہوئے متعدد دیگر لازمی منصوبے بھی جامعۃ القاسم کے اہداف و مقاصد میں شامل ہیں۔
تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت (تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس)
جس خطے میں جامعۃ القاسم قائم ہے، وہ مسلم اکثریتی آبادی کا علاقہ ہے اور اکثریت غریب محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ چنانچہ ان کی غربت اور کم علمی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے عیسائی مشنریاں اور قادیانی مربی سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ افسوس کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایک مقامی ضلع مجسٹریٹ شریف عالم (جو قادیانیوں کا نام نہاد امیر بھی تھا) کے زیرِ اثر ایک لاکھ سے زائد مسلمان قادیانی جال میں پھنس کر عقیدۂ ختمِ نبوت سے برگشتہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔
ان نازک حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے 'تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ' نے 'کل ہند مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت دار العلوم دیوبند' کی سرپرستی میں قادیانی اور دیگر باطل قوتوں کے خلاف ایک زبردست مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے باطل عقائد سے تائب ہو کر صراطِ مستقیم کی طرف رجوع کیا۔ یہ مہم تا حال جاری و ساری ہے۔
واضح رہے کہ ۱۹، ۲۰ اور ۲۱ ذی قعدہ ۱۴۲۹ھ مطابق ۱۹، ۲۰ اور ۲۱ نومبر ۲۰۰۸ء کو جامعۃ القاسم کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان تاریخی کانفرنس اور تحفظِ ختمِ نبوت تربیتی کیمپ منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوریؒ (ناظم کل ہند مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت دار العلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علماء ہند) نے فرمائی۔ جبکہ مولانا یعقوب اسماعیل منشی قاسمی (چیئرمین شریعہ کونسل، ڈیوزبری، برطانیہ) اور مفتی احمد دیولوی (بانی و مہتمم جامعہ علوم القرآن، جمبوسر، بھروچ، گجرات) بطورِ مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ ہندوستان کی مختلف دینی تحریکوں کے درجنوں علماء اور قائدین ان پروگراموں میں موجود رہے۔
پیامِ انسانیت کانفرنس اور "شیخ زکریاؒ چیریٹیبل ہسپتال" کا سنگِ بنیاد
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے نام سے منسوب ۱,۱۲,۰۰۰ مربع فٹ کے وسیع رقبے پر ۱۰۰ بستروں پر مشتمل 'شیخ زکریا چیریٹیبل ہسپتال' کا سنگِ بنیاد وزیر اعلیٰ بہار جناب نتیش کمار، شارحِ علوم و معارفِ شیخ زکریا حضرت مولانا سید محمد شاہد سہارنپوریؒ (امینِ عام جامعہ مظاہر علوم سہارنپور) اور دیگر اکابر علماء کے مبارک ہاتھوں سے ۱۱ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۶ اپریل ۲۰۱۰ء کو پیامِ انسانیت کانفرنس کے موقع پر رکھا گیا۔
اس کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا سید محمد شاہد سہارنپوریؒ نے فرمائی، جبکہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری (لندن)، مولانا سلیم محمد کریم (صدر دار القرآن انٹرنیشنل ٹرسٹ، جنوبی افریقہ) اور ڈاکٹر عزیز برنی (گروپ ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی) بطورِ مہمانانِ خصوصی جلوہ افروز ہوئے۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء و دانشوران اور تقریباً تین لاکھ سے زائد عوام شریک ہوئے۔
بین الاقوامی سیمینار "عصرِ حاضر میں علمائے کرام کا کردار" اور "متاعِ زندگی" کی رسمِ اجراء
جامعۃ القاسم کے زیرِ اہتمام بہار کے دار الحکومت پٹنہ میں ۱۶ ذی الحجہ ۱۴۳۲ھ مطابق ۱۳ نومبر ۲۰۱۱ء کو 'عصرِ حاضر میں علماء کا کردار' کے عنوان پر ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
اس علمی سیمینار کی صدارت حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ اور حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے فرمائی، جبکہ حضرت مولانا سید شاہد سہارنپوریؒ، ڈاکٹر عزیز برنی، مولانا انیس الرحمن قاسمی (پٹنہ)، مولانا سلیم محمد کریم (جنوبی افریقہ)، مولانا محمد عیسیٰ منصوری (لندن)، ڈاکٹر خالد اعظمی (کویت)، پروفیسر مفتی زاہد علی خان (علی گڑھ) اور جناب عامر سبحانی (ہوم سکریٹری حکومتِ بہار) وغیرہ نے بطورِ مہمانانِ خصوصی شرکت فرمائی۔ اس موقع پر یہ اہم فیصلہ بھی لیا گیا کہ جامعہ کی زیرِ نگرانی ایک خالص علمی تصنیفی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے۔
مسابقۂ قرآنِ کریم اور تعلیمی بیداری کانفرنس
جامعۃ القاسم اور جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا (مہاراشٹر) کے اشتراک سے ۱ اور ۲ ربیع الثانی ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۳ اور ۲۴ فروری ۲۰۱۲ء کو 'آل بہار مسابقۂ قرآنِ کریم' کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبہ بھر کے مدارس سے سینکڑوں طلبہ نے حصہ لیا۔
اس موقع پر ایک عظیم الشان 'تعلیمی بیداری کانفرنس' بھی منعقد کی گئی، جس کی صدارت حضرت مولانا سید شاہد سہارنپوریؒ نے فرمائی۔ جبکہ پروفیسر اختر الواسع (صدر شعبۂ اسلامیات جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی)، پروفیسر مفتی زاہد علی خان (صدر شعبۂ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور مولانا انیس الرحمن قاسمی (ناظم امارتِ شرعیہ) مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، اور درجنوں جید علماء اور لاکھوں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔
اسی تاریخی موقع پر عارف باللہ حضرت علامہ قاری سید محمد صدیق باندویؒ (بانی جامعہ عربیہ ہتھورا، باندہ) کے نام سے منسوب عظیم الشان مرکز 'ایوانِ صدیق' کا سنگِ بنیاد خادمِ قرآن حضرت مولانا غلام محمد وستانوی دامت برکاتہم کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا۔